کہوں کس سے میں کہ کیا ہے؟ شبِ غم بُری بلا ہے مجھے کیا بُرا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا؟

This post is also available in: English Hindi ગુજરાતી

   کہوں کس سےمیں کہ کیا ہے؟ شبِ غم بُری بلا ہے
مجھے   کیا   بُرا  تھا   مرنا،   اگر   ایک   بار   ہوتا؟

  شب غم=ہجرکی رات     بلا =مصیبت، قہر

تشریح: اس شعر میں غالِبؔ   واقعہ  بیان کرتا ہے۔ معشوق نے وصال کا وعدہ کیا ہے غالِبؔ محبوب کے آنے کے انتظار کی گھڑیاں گِن   رہا ہے ۔   ہر پل صدیوں سی لمبی لگتی ہے۔ اپنی حالت بیان کرنے کے لئے الفاظ تلاش کر رہا ہے۔   کہتا ہے مَیں کس طرح کہوں کہ شبِ غم   یا ہجر کی رات کیا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ شبِ غم   بہت ہی بڑی مُصیبت ہے۔   اِس میں انسان    بار بار موت کی تکلیف      اُٹھا تا   ہے اور پھر بھی نہیں مرتا۔   اگر میں ایک دفعہ   میں ہی مرجاتا   تو مجھے اس بار بار  مرنے کے عذاب سے نجات مل جاتی

شعر کی خوبیاں: غالِبؔ نے شبِ غم کے مصائب کو موت سے زیادہ  بتایا   ہے ۔

This post is also available in: English Hindi ગુજરાતી